From a daily wage of 10 rupees to receiving a State Award — an inspiring journey
10 روپے یومیہ اُجرت سے ریاستی ایوارڈ حاصل کرنے تک کا قابل ِ رشک سفر
Parvez Maanous Bhat
والد کا تعلق کشمیر سے، والدہ پونچھ سے۔پیدائش 6 مارچ 1966کو چھانہ پورہ سرینگر میں ہوئی۔ تعلیم وتربیت اور پرورش پونچھ ضلع میں ہوئی۔12ویں تک تعلیم اسلامیہ مڈل اسکول پونچھ اور بائز ہائر اسکینڈری اسکول پونچھ سے ہوئی۔ اُس دوران دیناناتھ رفیق اُستاد سے بھی دوران طالبعلمی پڑھنے کا موقع ملا ۔
1984میں والد صاحب کی وفات ہوگئی، گھریلو حالات تنگ ہوگئے۔ گھر میں بڑے ہونے کی وجہ سے سارا بوجھ پڑگیا۔ دو بہنوں، بھائی اور والدہ کی کفالت کے لئے 10 روپے یومیہ اُجرت پر مزدوری بھی کی۔ لوگوں کی بے رُخی، مفلسی، مایوسی، مشکلات ومصائب نے اُن کے اندر شاعر ,ادیب کو جنم دیا۔
1985 میں شاعری شروع کی، اُن کا پہلا شعر تھا
کئی دنوں سے گھروں سے دھواں نہیں نکلا۔
یہ کس امیر نے مفلس سے چھین لی روٹی
1986 میں محکمہ اسکول تعلیم میں بطور لیبارٹری اسسٹنٹ تقرری ہوئی اور اُن کی پہلی پوسٹ ہائی اسکول لسانہ(جو اب ہائر اسکینڈری اسکول لسانہ ہے) میں ہوئی، اُس وقت اُس اسکول کے ہیڈماسٹر نذیر حسین قریشی صاحب تھے۔
1989 کو ہند سماچار میں پہلا افسانہ ‘احساس’ شائع ہوا۔اسی سال چراغ حسن حسرت کی یاد میں بزمِ حسرت قائم کی جس میں مرحوم شیخ سجاد پونچھی کی قیادت میں پونچھ کے معصر شعرا، ادیب کی مجالس میں شامل ہونے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
1993 میں پہلی کتاب بیتے لمحوں کی سوغات آئی۔1994 میں پونچھ ٹاؤن ہال میں اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر پی دھر چکربھورتی کی ذاتی کاؤشوں سے کلچرل اکیڈمی کے زیر اہتمام کل ہند مشاعرہ ہوا جس میں پروفیسر جگن ناتھ آزاد، فضا ابن فیضی، پرتپال سنگھ بیتاب جیسے کئی بڑے شعرا حضرات نے شرکت کی۔ اس مشاعرہ میں اُردو غزل پڑھ کر کافی داد ِ تحسین حاصل کی۔
مشاعرہ ختم ہونے کے بعد وہاں کلچرل اکیڈمی کے شعبہ پہاڑی کے مدیر جناب ظفر اقبال منہاس صاحب نے بہترین کلام کے لئے مبارک باد دی اور پہاڑی زبان میں لکھنے کامشورہ دیا۔ صرف مشورہ ہی نہیں دیا بلکہ پوری رہنمائی وتحریک دی، یوں پہاڑی زبان میں لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
ہر گذرتے دن کے ساتھ ساتھ پہاڑی زبان میں لکھنے کا جنون بڑھتا ہی گیا۔ پہاڑی میں شاعری لکھی، افسانے لکھے، ناول، ترجمے کئے، ادارت کی۔ ریڈیو ٹیلی ویژن پر پہاڑی پروگرام, خبریں پیش کیں۔ ریڈیو ڈرامے , ٹی وی پہاڑی سیریل لکھے اور آج یعنی 26 جنوری 2026 تک پہاڑی زبان کی جھولی میں درجنوں کتابوں کا اضافہ کرنے والے شاعر، ادیب، مترجم، محقق، ناول نگار، افسانہ نگار، براڈکاسٹر، نیوز کاسٹر، اینکر جناب پرویز مانوس صاحب کو حکومتِ جموں وکشمیر کی طرف سے پہاڑی زبان و ادب میں ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دینے کے لئے ادب کے زمرہ میں اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازے جانے پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارک باد۔ اللہ پاک مزید ترقی اور بلندیاں عطافرمائے۔ مانوس صاحب شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اِس وقت بطورماسٹر سرینگر کے ایک سرکاری اسکول میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
میری خوش نصیبی رہی ہے کہ پرویز مانوس صاحب ادب میں میرے استاد ہیں اور اُن کی رہنمائی ہمیشہ حاصل رہتی ہے۔ مانوس صاحب بہت بہت مبارک ہو۔.
دعا گو
الطاف حسین جنجوعہ

